نماز ميں وسوسے كى شكار عورت كے ليے نماز تراويح ميں عورتوں كى امامت كروانى جائز ہے

6,022

سوال 43795

كيا نماز ميں وسوسے كى شكار عورت كے ليے نماز تراويح ميں اپنى بہنوں كى امام كروانى جائز ہے ؟

جواب کا متن

ہمہ قسم کی حمد اللہ تعالی کے لیے، اور دورو و سلام ہوں اللہ کے رسول پر، بعد ازاں:

اس عورت كے ليے نماز تراويح ميں اپنى بہنوں كى امامت كروانے ميں كوئى حرج نہيں، جب وہ نماز كى شروط اور اس كے اركان اور واجبات كو پورا كرتى ہو تو وہ عورتوں كى جماعت كروا سكتى ہے، اور ہو سكتا ہے اس كا امامت كروانا اس كے ليے اپنے آپ پر قابو پانے ميں ممد و معاون ہو، اور وسوسے كو قبول نہ كرنے كا سبب بن جائے.

ممكن ہے كہ يہ وسوسے ختم ہو كر رہ جائيں، اور اس كا باجماعت نماز ادا كرنا نماز ميں ضبط كى زيادتى كا باعث بن جائے.

واللہ اعلم .

حوالہ جات

تراویح کی نماز اور لیلۃ القدر

ماخذ: 

الاسلام سوال و جواب

ایمیل خبرنامہ

اسلام سوال و جواب کی میلنگ لسٹ میں شامل ہوں

اسلام سوال و جواب ایپ

مواد تک فوری رسائی اور آف لائن مطالعہ کے لیے

App StoreGoogle Play